AA Partager

Khud gharzi

حمنہ آج بہت اداس تھی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ جو کرنے والی ہے اس سے اسکے گھر والوں کو تکلیف ہوسکتی ہے بلکہ اسد تو شاید مر ہی جائے گا

کافی دیر تک وہ کمرے کو تکتی رہی۔ پھر ایک دم سے اس نے سب کچھ جھٹلا دیا۔ جلدی سے اٹھی اور بیگ پیک کرنے لگی۔ سارا ضروری سامان اٹھانے کے بعد وہ باہر آئ۔ باہر اسکے گھر والے بیٹھے تھے۔

احمد آکر اسے لپٹ گیا اور بولا مما آج آپ جلدی آنا مجھے آپکے ساتھ کھیلنا ہے۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ حمنہ نہیں لوٹے گی

حمنہ نے آخری بار سب کو دیکھا اور گھر سے نکل گئی

سب کو لگا کہ حمنہ معمول کی طرح ڈیوٹی پرگئ ہے۔

حمنہ ایک پولیس آفیسر تھی۔ اسے اپنی ڈیوٹی سے بہت پیار تھا۔ اور آفیسر حمنہ خان بہت ایمانداری سے ڈیوٹی کرتی تھی اسکے گھر والے اس سے بہت پیار کرتے تھے۔

گھر میں اسکے ساس سسر , دیور دیورانی انکی ایک بیٹی، اور حمنہ کا بیٹا احمد اور شوہر اسد تھے۔

»»——⍟——«« ن

شام ہونے کو تھی پر حمنہ نہیں لوٹی تھی۔ گھر میں سب پریشان تھے۔

پوری رات گزر گئ لیکن حمنہ کا کچھ پتہ نہ چلا۔

صبح کے اجالے کے ساتھ گھر پر قیامت آئ تھی۔ حمنہ تو نہ آئ پر اسکی موت کی خبر آئ تھی

گھر میں جیسے سناٹا چھا گیا تھا ۔ اسد سن ہوگیا۔ احمد کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، سمجھتا بھی کیا وہ تو آٹھ سال کا بچہ تھا

پولیس نے بتایا کہ حمنہ کو کچھ جیل سے بھاگے ہوئے مجرموں نے گولی ماردی اور لاش کھائ میں پھینک دی

کھائ بہت گہری تھی جس کی وجہ سے لاش ڈھونڈھی جاسکی

سب جانتے تھے کہ حمنہ گھر کی جان تھی اب نہ جانے گھر کا کیا ہوگا؟ ارے احمد کا کیا ہوگا؟ اسد کی تو جان بستی تھی ھاۓ محلے والے مسلسل تبصرے کر رہے تھے۔

*+:。.。 。.。:+**+:。.。 。.。:+**+:。.。 。.。:+**+:。.。 。.。:+**+:。.。 。.。:+**:..。o○ ○o。..:**:..。o○ ○o。..:**:..。o○ ○o。..:**:..。o○ ○o。..:**:..。o○ ○o。..:**:..。o○ ○o。..:*。.。:∞♡*♥

دس ماہ بیت گئے تھے۔ حمنہ کے جانے کے بعد کوئ گھر میں کھل کر ھنسا تھا۔ اسد نے کاروبار پر توجہ نہیں دی تھی جس کی وجہ سے کاروبار ڈوب گیا اور احمد بھی اپنے امتحان میں فیل ہو گیا تھا گھر کے حالات بہت خراب ہو گۓ تھے۔ اسد سارا دن کمرے میں بند رھتا۔

گھر میں گہرا سناٹا تھا۔ اچانک فون بجا۔ حمنہ کے دوست پولیس آفیسر عالیہ کا فون تھا۔ لگتا ہے پھر کوئی تمغہ دینا ہے۔ حمنہ کی ساس منہ ہی منہ میں بڑبڑائ۔ اور فون اٹھایا۔

فون سنتے ہی سب کی سانسیں تھم گئ

عالیہ نے بتایا تھا کہ حمنہ زندہ ہے اور وہ کل گھر ارہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر میں سب کے اندر غصہ کی لہر دوڑ گئ حمنہ کی ساس نے تو سب کو آگاہ کر دیا کہ اب حمنہ سے انکا کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔۔

اگلے دن سارا دن گزر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن حمنہ نہیں آئ۔۔۔۔

شام کو بارش شروع ہو گئ۔۔۔

ابھی سب سونے جاہی رہے تھے کہ بیل بجی۔ حمنہ کے دیور اکرم نے دروازہ کھولا۔۔۔

سامنے حمنہ کھڑی تھی۔۔۔۔

اس سے پہلے کے حمنہ کچھ کہتی اسد غصے میں آگے بڑھا اور چلایا۔۔۔

اب کیوں ائ ہو کیا لینے ائ ہو؟؟ اس گھر کے دروازے تمھارے لیے بند ہوگۓ ہیں۔

اور چلا چلا کر اپنے سارے دکھ اسے بتا دیے

گھر والوں نے بھی اسے خوب سنایا۔۔۔۔۔

احمد بھی چلایا۔۔۔

I hate you Mumma

You are so bad

حمنہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے وہ بہت روئ لیکن کسی نے اسکی بات نہیں سنی۔۔۔۔۔۔

اسد نے ھاتھ پکڑ کر اسے باہر نکال دیا۔۔۔۔۔ وہ باہر بھی چلا رہی تھی۔۔۔ اسد۔ اسد پلیز۔۔ میری بات سنو۔۔۔۔ اسد

اسکے کانوں میں سب کی آوازیں گونج رہی تھی۔۔۔

اسے کچھ ہوش نہیں تھا۔۔۔

وہ اچانک سے چلنے لگی جیسے خودبخود

سامنے سے ٹرک آیا اور حمنہ کی چیخ بلند ہوئ۔۔۔۔

اک پل کو اسد کا دل تڑپا پر اس نے خود کو نارمل کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج پورا ایک سال گزر گیا تھا اس دن حمنہ کے جانے کے اگلے دن اسد کو کئ کالز آئیں تھیں۔۔۔ اسد نے کہ دیا کہ وہ کسی حمنہ کو نہیں جانتا۔۔۔ اور حمنہ مرے یا جیے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد حمنہ ائ نہ کوئی خبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسد حمنہ سے نفرت ظاہر کرنے کےلیے اتنا کام کرتا تھا کہ کاروبار بہت انچایوں پر تھا۔۔۔۔ احمد بھی اب پڑھنے لگا تھا۔۔۔۔۔

گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے سب نے اسلام آباد جانے کا پلان بنایا۔۔۔۔۔۔

کچھ دن بعد سب اسلام آباد میں تھے گورنمنٹ کی طرف سے ہی یہ ووکیشن پیکیج تھا۔۔۔۔۔۔

اس لیے رہائشی انتظام بھی گورنمنٹل اپارٹمنٹ میں تھا۔۔۔۔۔۔۔ ابھی سارا دن گھومنے کے بعد وہ ایک ریسٹورنٹ میں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسد سڑھیوں پر سے اچانک سے پھسلا۔۔۔۔ احمد چلایا۔۔۔ papaa…. . .

لیکن اچانک سے کسی نے اسے تھاما تھا۔۔۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔ تو وہاں ہنستی ہوئی حمنہ کھڑی تھی۔۔۔۔ اک پل کو اسد اسے تکتا رھا ۔۔۔۔۔

وہ خوبصورت تو پہلے بھی بہت تھی۔۔۔ لیکن اب اور زیادہ حسین ہو گئ تھی۔۔۔۔

اچانک حمنہ نے چٹکی بجائ۔۔۔۔ کیا ہوا ملک صاحب؟؟

خیال رکھا کیجئے ورنہ------ گر جائیں گے آپ۔۔۔ اس نے ورنہ پر بہت زور دیا تھا۔۔۔ اسد حیران کھڑا تھا۔۔۔

اچانک ایک بھیڑ حمنہ کی طرف بڑھی۔۔۔ اور حمنہ سیلفی اور اٹوگراف میں مصروف ہو گئ۔۔۔۔۔

سب حیران کھڑے تھے۔۔۔

ابھی وہ اپنے اپارٹمنٹ کی چابی لینے آۓ ہوۓ تھے۔۔۔ منیجر نے بولا دیکھیے جناب اپ سرکاری گھر میں رہنے والے ہیں۔۔۔ یہ گھر بہت بڑا ہے۔۔۔ اسلۓ آپکو گھر شیئر کرنا ہوگا۔۔۔۔

اسد حامی بھرتا ہوا آگیا۔۔۔ گھر کو کھول کر سب آرام کرنے چلے گۓ۔۔ **✿❀ ❀✿****✿❀ ❀✿****✿❀ ❀✿****✿❀ ❀✿****✿❀ ❀✿**

سب ہی حمنہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔ لیکن اسد تو کچھ اور سوچ ہی نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔۔

شام کے وقت سب ھال میں موجود تھے۔۔۔ احمد ٹی وی دیکھ رھا تھا۔۔ اچانک دروازہ کھلا ۔۔ اسد نے کہا لگتا ہے گھر میں رہنے والا فرد آیا ہے۔۔۔ بس جو بھی ہو کھڑوس نہ ہو اسد کی بھابھی ماہا نے کہا۔۔۔ سامنے دیکھا تو حمنہ آئ تھی۔۔۔

اسد آگے بڑھا وہ پہلے ہی سوچ چکا تھا کہ وہ حمنہ کو کیا کہے گا۔۔۔ جب وہ دوبارہ ملے گی۔۔۔

میں مانتا ہوں کہ ھم ایک ہی شہر میں ہیں لیکن اس ک مطلب یہ نہیں کہ آپ ہمیں تنگ کرنے آجائیں۔۔۔ حمنہ نے اسد کو ٹوک دیا۔۔۔۔۔

Listen mr-

یہ میرا گھر ہے اور شاید آپ ہی ہیں وہ جو اب اس گھر میں رہیں گے لیکن قائدے کے مطابق میں اس گھر کی مالکن ہوں۔۔ اور آپ ایک مہینے کے مہمان۔۔۔۔

So stay in your limits… .. .

اسد حیران تھا۔۔ کیونکہ حمنہ ایسی نہیں تھی۔۔۔ وہ اکڑ نہیں رکھتی تھی۔۔ لیکن اب وہ اب بہت بدل گئ تھی۔۔ ظاہری طور پر بھی۔۔۔۔ اور شاید اندر س ے بھی

حمنہ سب سے بے نیاز ہوکر میز پر رکھے چپس کھانے لگی۔۔ سب حمنہ کو گھورنے لگے

کیا ہوا اب ملک صاحب اپنا کام کیجیے۔ کوئی کام دھندا نہیں ہے کیا۔ اسد کو حمنہ کا بار بار ملک صاحب کہنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ حمنہ ھمیشہ ہی اسےاسد کہا کرتی تھی پر اب وہ بالکل بیگانوں کی طرح ملک صاحب بلانے لگی تھی۔۔ یہ بات اسد کو چبھتی۔۔

کیا ملک صاحب ملک صاحب لگایا ہوا ہے میرا نام اسد ہے اسد چلایا۔۔۔۔

اچھا پر انجان لوگ نام سے نہیں بلاتے

اسد کو اپنی بات یاد آئ جو اس نے حمنہ کو گھر سے نکالتے ہوۓ کہی تھی۔۔۔

آج سے نہ تم مجھے جانتی ہو نہ میں تمہیں۔۔ اسد مٹھی بھینچ کر رہ گیا۔۔۔۔

حمنہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

رات کے کھانے پر حمنہ میز پر آکر کھانے کے لیے اگئ۔۔ مینا۔۔ مینا۔۔ حمنہ کھانے کے لیے اپنی نوکررانی کو آواز دی۔۔ اسد اور باقی گھر والے بھی آگۓ۔۔ اسد نے نرمی سے حمنہ کو کہا دیکھو تم تو کہیں بھی بیٹھ کر کھانا کھا سکتی ہو پر ہم سب کو تو عادت ہے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی۔۔

Listen mr… .

آپ نے ریکویسٹ کی۔۔ پر میں بھی کیا کروں میرا گھر ہے میں یہیں بیٹھ کر کھانا کھاؤں گی۔۔ اسد چلایا لیکن ھمارا بھی اس گھر پر حق ہے

۔۔ ہاں ہے ناں۔۔۔ تو بیٹھیے میں نے کب روکا ہے۔۔۔ اسد نہ چاھتے ہوۓ بھی بیٹھ گیا۔۔۔ حمنہ کا کھانا دیکھ کر سب منہ بنا رہے تھے۔۔ کیوں کہ حمنہ کا کھانا بہت تیز مصالہے والہ تھا۔۔۔ حمنہ نے سب کے تاثرات دیکھے اور مسکرائ۔۔۔ اور پھر بے نیازی سے کھانا کھانے لگی۔۔ کھانا کھانے کے بعد سب گھر والے ایک کمرے میں بیٹھے تھے۔۔۔ مما یہیں رہیں گی کیا؟؟. احمد نے پوچھا۔۔ ہممممم۔ اسد نے جواب دیا۔۔ پاپا مجھے اچھا نہیں لگتا انہیں اگنور کرنا۔۔۔ اب کیا اسے جھیلنا پڑے گا۔۔ ماہا نے پوچھا۔۔ اور کوئ راستہ بھی نہیں ہے۔۔ اکرم نے کہا۔۔ اگر ہم یہاں نہیں رہے گے تو کہاں جائیں گے۔۔ اور واپس بھی نہیں جاسکتے احمد اور ابیہا کی پڑھائی کا مسئلہ ہے۔۔ سمر کیمپ جوائن کئے بنا واپس نہیں جا سکتے بچے۔۔۔

نہیں ھم کہیں نہیں جائیں گے ارے ھم کیوں جائیں اسد نے جواب دیا۔۔۔

✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*

صبح صبح انہیں حمنہ نظر نہیں آئ اسد نے سکون کا سانس لیا کیونکہ وہ حمنہ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔ بظاہر وہ یہی کہتا کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔

دوپہر میں ابیہا اور احمد سکول سے واپس آئے اور کہا کہ ان کو پراجیکٹ ملا ہے تین بجے کے گیم شو کی آبزرویشن بتانی ہیں۔۔

دونوں بچے تین بجے ٹی وی کے سامنے تھے اسد اکرم اور ماہا بھی آگۓ بچوں کی مدد کرنے کےلیے۔۔

گیم شو شروع ھوا۔۔ گیم کا پارٹ ختم ہوا تو انٹرویو کا پارٹ شروع ہوا۔۔ بچوں کےلیے اھم بھی یہی حصہ تھا۔۔ اسد کے امی ابو بھی آگۓ تھے۔۔

ٹی وی پر اناؤنسمنٹ ہوئ۔۔

Now please welcome the Lovely personality

Officer hamna khan… ..

اسد ہکابکا رہ گیا۔۔

اور پھر حمنہ اندر آئ۔۔ پنک کلر کی لانگ شرٹ گھٹنے تک ڈارک بلیو جینز۔۔ آنکھوں میں گہرا کاجل۔۔ ہونٹوں پر ہلکی گلابی لپ اسٹک۔۔ حمنہ بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ اسد چاہ کر بھی نظر نہیں ہٹا پارہا تھا۔۔۔ اسد کی امی نے اسد کے تاثرات دیکھ لیے تھے۔۔۔ حمنہ بہت اعتماد کے ساتھ سارے سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔۔ شو دیکھنے سے پتا چلا۔۔ کہ حمنہ کو اسلام آباد میں لوگ بہت پسند کرتے تھے۔۔ اور اسکی پرسنیلٹی بھی بہت مقبول تھی۔۔۔ اک پل کو اسد کو فخر ہوا۔۔

پھر روز روَز ایسا ہونا لگا تھا اسد کو حمنہ سے پھر سے محبت ہو گئ تھی۔۔

حمنہ بظاہر سب سے بے نیاز رہتی۔۔۔ ایک دن سیڑھیوں پر سے لوہے کے راڈ رکھے تھے۔۔ اسد گزر رہا تھا۔۔ کہ راڈ پھسلا اور اچانک سے اسد کو کسی نے بہت زور سے دھکا دیا۔۔ اسد گرا۔۔ اور جب وہ اٹھا۔۔ تو۔۔۔ اس نے دیکھا حمنہ بے ھوش ہے اور راڈ اس پر گرا ہے۔۔ اسد چلایا۔۔۔ حمنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسد جلدی سے حمنہ کو گود میں اٹھا کر ہسپتال لے گیا۔۔ باقی گھر والے بھی بہت پریشان تھے۔۔ ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ حمنہ کے ھاتھ پر فریکچر ہے اور سر سے بھی بہت خون بہا ہے۔۔ حمنہ ویسے تو ٹھیک ہے پر اسے آرام کی ضرورت ہے۔۔ اسد نے سکون کا سانس لیا۔۔ ابھی تک سب کو حمنہ کا رویہ دیکھ کر لگا کہ وہ اسد سے نفرت کرتیہے لیکن آج اس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسد کی جان بچائ۔۔۔ تو کوئ بھی حمنہ کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔۔۔

شام تک حمنہ کو ہوش آیا تو وہ اٹھ کر باھر آئ اسد بھاگا کیا ھوا باہر کیوں آئ۔۔۔

حمنہ مسکرائ۔۔۔ ملک صاحب۔۔ مجھے عادت ہے اپنا خیال رکھنے کی۔۔

اسد حیران ہوا۔۔ حمنہ کو پتا نہیں کیا ہو گیا تھا ہر بات کا جواب مسکرا کر دیتی۔۔۔ چاہے جتنی تکلیف کیوں نہ ہو۔۔۔

اس رات اسد اور باقی گھر والے بہت دیر سے گھر پر آۓ تھے✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*✧・゚: *✧・゚:*

اسد کو بزنس پارٹی میں جانا پڑا تھا۔۔ وہ نہیں جانا چاہتا تھا لیکن حمنہ کا رویہ دیکھ کر اسے لگا ابھی حمنہ کو اکیلا چھوڑ دینا چاہیے۔۔ واپسی پر اس نے سوچا حمنہ کو دیکھ لے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں حمنہ جاگ رہی تھی۔۔ اور آپنے کمرے کے ساءیڈ پر کھڑے باکسنگ اسٹیچوپر پنچ کر رہی تھی۔۔ اسکے ھاتھ زخمی تھے۔۔ حمنہ!۔۔۔۔۔۔ اسد چلایا کیا کر رہی ہو۔۔

ملک صاحب میری تو عادت ہے۔۔۔۔ یہ سب کرنے کی۔۔ اسد حیران کھڑا تھا۔۔

میں ھمیشہ ایسے ہی کرتی ہوں۔۔۔

حمنہ تم سوئ کیوں نہیں۔۔۔۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔۔۔

اچھا پر مجھے نیند آۓ تو ناں۔۔۔۔۔

ایکچوئلی میری نیند کی گولیاں ختم ہوگئ ہیں۔۔۔

What??

اسد چینخا ۔۔ تم نیند کی گولیاں لیتی ہو۔۔۔ کیوں۔۔۔ تم جانتی ہو ناں وہ صحت کےلیۓ اچھی نہیں ہوتی۔۔۔

ہاں میں لیتی ہوں۔۔۔۔

You know why??

Because of you!!

آپ کو کیا لگتا ہے۔۔ میں آپ سے نفرت کرتی ہوں نہیں ایسا نہیں ہے۔۔

Even i love you

I love you so much!!

پیار کیسا پیار حمنہ؟؟

سچ تو یہ ہے کہ تم اپنی فیملی سے زیادہ اپنے آپ سے پیار کرتی ہو اس لیے تو اپنی پرموشن کے لیے ہمیں چھوڑ کر چلی گئی تم!!!!

تم خودغرض ہو حمنہ!

ھمممممممم

You are right!!

میں خود غرض ہوں۔۔۔

ہاں ہوں میں خود غرض

آپکو پتا ہے کیا۔۔

جب ڈپارٹمنٹ نے مجھے کہا نہ کہ 💣بوم بلاسٹ کو روکنے کے لیئے مجھے آپ سب کو چھوڑ کر جانا ہوگا

تو میں نے صاف منع کردیا۔۔۔

لیکن مجھے پتا چلا کہ وہ ایریا جہاں بومب بلاسٹ ہونا ہے وہ میرا ہی سٹی ہے۔۔۔

میں خود غرض بن گئ۔۔

مجھے لگا اگر میں مر گئ تو آپ سب جی لیں گے لیکن اگر میری فیملی میں سے کسی کو کچھ ہو گیا تو !!!!

میں نے جانا کا عزم کرلیا۔۔

وہاں جانے کے بعد زندہ واپس آنا بہت مشکل تھا۔۔۔

میں پھر بھی گئ پتا ہے کیوں

Because I am selfish

وہاں بہت تکلیفیں برداشت کی

اور بومبلاسٹ کا خطرہ بھی ٹل گیا۔۔

میں جب لوٹی تو بہت خوش تھی۔۔۔

پر نہیں اب میں سب کے لیے سچ میں مر گئ۔۔۔۔

ارے وہ اسد جو کسی جانور کو دربدر نہیں کرتا اس نے اپنی بیوی کو تیز بارش میں گھر سے نکال دیا۔۔۔

میں بہت چلائ پر نہیں۔۔۔۔

مجھے کچھ ہوش ہی نہیں تھا۔۔۔

ہوتا بھی کیسے۔۔۔

میری فیملی مجھ سے نفرت کرتی ہے یہ میں کیسے برداشت کر سکتی تھی۔۔۔

اسی حالت میں ٹرک کے سامنے آئے آگئ۔۔۔

ایکسیڈینٹ کے بعد مجھے لگا کہ آپ آئیں گے۔۔۔

پر آپ نہیں آۓ۔۔

جب ڈاکٹر نے کال کی تو آپ نے کہا آپ کسی حمنہ کو نہیں جانتے۔۔۔

لیکن حمنہ مجھے نہیں پتا تھا۔۔

اسد نے صفائی دی۔۔۔ ۔

لیکن کیا۔۔۔ یہ بات مجھ سے برداشت نہیں ہوئی۔۔ میرے دماغ پر گہرا اثر ہوا اور ڈاکٹر کے مطابق میں پاگل ہو گئ ۔۔۔۔۔۔۔ ڈیڑھ مہینے پاگل خانے میں رہنے کے بعد میں نارمل تھی ڈاکٹر کے لیے۔۔۔۔

اور میری خود غرضی کی یہ سزا ملی ہے مجھے

اسد شرمندہ تھا۔۔۔۔

کیا واقعی حمنہ خود غرض ہے ؟؟؟؟؟

★~(◠ω◕✿)★~(◠ω◕✿)★~(◠ω◕✿)★~(◠ω◕✿)★~(◠ω◕✿)★~(◠ω◕✿)★~(◠ω◕✿)★~(◠ω◕✿)

Nimra... Abubakar


… . … … … … … … . .

1 Octobre 2021 07:45:15 0 Rapport Incorporer 0
~