2
1.9k VIEWS
AA Share

Nasoor heart touching afsana by sara urooj

Nasoor 💝

one of the famous romantic heart touching story 💕


#ناسور

#از قلم_سارہ_عروج


تیز ہواؤں کے ساتھ کھڑکیاں کھلتی اور بند ہوتی جارہی تھیں۔ہوا کے باعث ہلتے درختوں کے جھنڈ نے ماحول میں الگ موسیقی پیدا کی ہوئی تھی۔ایسے میں وہ شخص کمرے میں بیٹھا باہر کے موسم کو دیکھتا کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔بارش نے کانچ کی کھڑکیوں اور دروازوں کو دھندلا کر رکھا تھا اور زندگی نے اس کے نصیب کے شیشوں کو۔۔۔

وہ ایسی ہی ایک رات تھی جس نے ان کی زندگی کی خوشیوں کو تہس نہس کر دیا۔

کتنا مکمل خاندان تھا ان کا ۔سب کتنے خوش تھے۔۔لیکن پھر ان کی زندگی میں ایک ایسا طوفان آیا جو سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عائزہ ! عائزہ ! کہاں ہو یار۔۔۔؟؟؟

میری ٹائی کہاں رکھی ہے مل نہیں رہی۔۔۔؟؟

زوہیب نے کمرے میں سے کیچن میں کام کرتی عائزہ کو آواز دی۔۔


کیا ہوا زوہیب کیوں اتنا شور مچا رہے ہیں۔۔

میں بیڈ پر رکھ کر ہی تو گئی تھی۔۔

وہ جھنجلاتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں۔اور شیشے کے سامنے کھڑے زوہیب سے کہا۔۔


یہ دیکھیں یہیں تو رکھی ہے وہ ان کے سامنے ٹائی کرتے ہوئے بولیں۔۔


جی مجھے معلوم ہے۔۔اگر میں ویسے بلاتا تو تم نے آنا نہیں تھا۔۔اب جلدی سے ٹائی باندھو۔۔وہ محبت سے ان کا ہاتھ اپنے کالر پر رکھتے ہوئے بولے۔۔

آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا وہ ہنستے ہوئے تاسف میں سر ہلاتے ہوئے بولیں۔۔جبکہ وہ محبت بھری نظروں سے اپنی معصوم سی شریک ِحیات کو دیکھ رہے تھے۔


زوہیب اور عائزہ کی پسند کی شادی تھی ۔ان کی شادی کو دس سال ہو چکے تھے۔

شادی کے ایک سال بعد اللہ نے انہیں ایک رحمت سے نوازا تھا جس کا نام انہوں نے ماہ رخ رکھا ۔ماہ رخ کی پیدائش کے دو سال بعد ان کی یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی۔چھوٹا سا بھرے گالوں ،تیکھے نقوش والا افراہیم سب کی جان تھا ۔

یہ دونوں ہی بچے ان کی کل کائنات تھے۔


بابا چلیں ہمیں اسکول چھوڑ دیں ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔۔

ماہ رخ اپنا اور افراہیم کا اسکول بیگ لئیے کمرے سے باہر آتے ہوئے بولی۔

جی میری گڑیا چلیں بابا آپ لوگوں کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔۔

وہ دونوں کو پیار کرتے ہوئے بولے۔

خدا حافط۔۔

عائزہ سب کو الوداع کرتیں واپس اپنے کام میں مشغول ہو چکی تھیں۔جبکہ زوہیب بچوں کو اسکول چھوڑ کر اپنے آفس کی جانب روانہ ہو چکے تھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عائزہ کھانا لگا کر باہر لان میں آئی جہاں زوہیب دونوں بچوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔۔۔یہ ان کا روز کا معمول تھا ۔وہ پورے دن میں سے تھوڑا سا وقت اپنے بچوں کو لازمی دیتے تھے۔ان کو یوں کھیلتا دیکھ دل ہی دل میں ان کی نظر اتاری اور ہمیشہ ساتھ رہنے کی دعا کی تھی۔لیکن کچھ دعائیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی سبب کی باعث قبول نہیں ہو پاتیں۔۔


بس بس۔۔۔آج کے لئیے اتنا کافی ہے۔ سب ابھی اندھر چلیں ۔۔

کھانے کا وقت ہو چکا ہے۔۔

یس میم۔۔۔۔زوہیب نے سیلوٹ کرنے کے انداز میں اکڑ کر کہا۔۔

جس پر عائزہ کی نا چاہتے ہوئے بھی ہنسی نکل پڑی۔۔اور یوں ہی ہنستے کھیلتے وہ لوگ اندر کی جانب چل دیے۔

دور کھڑی قسمت ایک دم اداس ہوئی تھی نا جانے ان کی قسمت کون سا موڑ لینے والی تھی۔


عائزہ میرا ایک دوست ہے بچپن کا وہ دبئی سے آرہا ہے۔تو تقریباً ایک مہینہ وہ ہمارے گھر پر رہائش کرے گا۔


لیکن زوہیب۔۔آپ کیسے کسی کو گھر میں لا سکتے ہیں۔۔نہیں مطلب ایک ، دو دن تک ٹھیک ہے۔۔پر ایک مہینہ!!۔۔ہمارے گھر میں جوان بچی ہے۔آپ اپنے دوست کی رہائش کا بندوبست کسی ہوٹل میں کر دیں۔

میں یہ رسک گھر کے لئیے نہیں لوں گی ۔

عائزہ تم سمجھنے کی کوشش کرو۔وہ بچپن کا دوست ہے میرا اس نے خود کہا ہے وہ یہاں رکنا چاہتا ہے۔میں کیسے اسے منا کر سکتا ہوں۔میرا بچپن کا ساتھی ہے وہ قابلِ بھروسہ ہے۔تم تمام برے خیالات کو اپنے ذہن سے نکال دو ۔۔

کل گیسٹ روم صاف کروا دینا۔۔

زوہیب اپنی بات کہتا عائزہ کو بھی سونے کی تلقین کرتا سائڈ کا لیمپ اوف کیے لیٹ چکا تھا۔


آج کا دن زوہیب کے لئیے بہت خاص تھا اس کا بچپن کا دوست،اس کا ساتھی اسفند کافی عرصے بعد پاکستان آہ رہا تھا۔وہ بہت خوش تھا ۔لیکن اس بات سے بے خبر کے یہ خوشیاں صرف کچھ عرصےکی مہمان ہیں۔۔کیونکہ جسے وہ اپنا دوست سمجھ رہا تھا حقیقت میں وہ دوست نہیں آستین کا سانپ معلوم ہونے والا تھا۔


لگتا ہے اسفند آہ گیا ہے۔۔زوہیب ڈور بیل کی آواز پر صوفے سے کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔

اسلام وعلیکم !

وہ دونوں ایک دوسرے سے ملتے ہوئے بولے۔

اور اندر کی جانب آئے جہاں سب انہی کے منتظر تھے۔

اسفند آؤ تمہیں تمہارا کمرا دیکھا دوں فریش ہو جاؤ پھر کھانا کھاتے ہیں مل کر۔۔

ہاں یہ بہت پتے کی بات بولی ہے۔۔میں تھوڑا سا فریش ہو جاؤں پھر بھابھی کے ہاتھ کا مزے دار کھانا تناول فرماؤں گا۔۔وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔

اور زوہیب کی پیروی کرتا اپنا بیگ تھانے گیسٹ روم کی سمت چل دیا۔۔

تھوڑی دیر میں فریش ہونے کے بعد ان سب نے مل کر خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔۔

واہ بھابی مزا آہ گیا۔غیر ملکی کھانے کھا کھا کر بہت بور ہو گیا تھا۔سیریسلی آپ کے ہاتھوں میں بہت ٹیسٹ ہے۔۔کافی عرصے بعد دیسی کھانا نصیب ہوا ہے۔۔وہ ڈائننگ ٹیبل سے کھڑا

ہوتے ہوئے بولا۔۔

شکریہ۔عائزہ چہرے پر ہلکی سی مسکان سجا کر بولی۔

ہاہاہاہا۔۔۔یہ بات تو خوب بولی۔ واقعی ہماری بیگم بہت کمال ہیں۔۔ایسی ہی تو ہم ان کے دیوانے نہیں ہیں۔۔

زوہیب عائزہ کو اپنے بازؤں حلقے میں لیتے ہوئے بولا۔

کھانے کے بعد وہ سارے اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لئیے جا چکے تھے۔

ایسے ہی دن گزرتے گئے۔۔اسفند کو آئے پورا ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔سب کچھ اپنے معمول کے مطابق چل رہا تھا۔زوہیب روزانہ آفس جاتا ، زوہیب کے جانے کے بعد اسفند بھی نکل جاتا اور شام ہونے سے پہلے گھر آجاتا تھا ۔ان گزرے دنوں میں وہ بچوں سے کافی اٹیچ ہو چکا تھا۔لیکن عائزہ کو اس کا رہنا اب بھی کھٹکتا تھا۔اس کو اسفند کی نیت میں کھوٹ نظر آتا تھا۔اس کی چھٹی حس اس کو بیدار کر رہی تھی۔وہ زوہیب سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس کی ناراضگی کے ڈر سے کچھ کہہ نا پاتی تھی۔

زوہیب یہ لو کافی پیو .!!

اسفند نے زوہیب کو کوفی لا کر دیتے ہوئے کہا۔۔

بہت شکریہ یار تم تو روز مجھے کوفی بنا کر دیتے ہو۔ویسے تمہاری کافی پینے کے بعد کافی سکون کی نیند آتی ہے۔

زوہیب جو آفس سے کافی زیادہ تھکا ہوا آیا تھا۔

اسفند کے کافی بناکر لانے پر اس کے ہاتھ سے تھامتے ہوئے بولا۔۔

جب کہ زوہیب کی بات پر اس کے چہرے پر شیطانی ہنسی نمایاں ہوئی تھی۔جسے زوہیب چہرا سامنے ہونے کی وجہ سے دیکھ نا پایا تھا۔

زوہیب دراصل میں تمہیں یہ بتانے آیا تھا مجھے کسی کام سے دوسرے شہر جانا ہے ۔۔تقریباً دو دن لگ جائیں گے۔میں واپس آہ جاؤں گا۔

وہ اس کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔

او۔۔اچھا کوئی بات نہیں۔۔تمہارا اپنا گھر ہے جب دل چاہے آو۔۔ہمارے دل۔اور گھر کے دروازے ہمیشہ تمہارے لئیے کھلے ہیں۔۔

بہت بہت شکریہ یار ۔۔

اس میں شکریہ کی کیا بات ۔۔۔چلو اب چلتا ہوں ۔لگتا ہے بہت زیادہ نیند آہ رہی ہے۔۔وہ منہ پر ہاتھ رکھے جمائی لیتے ہوئے بولا۔۔اور کمرے کی جانب سونے کی نیت سے چلا گیا ۔جہاں پہلے سے موجود عائزہ اس کا کب سے انتظار کر رہی تھی ۔

کہاں رہ گئے تھے زوہیب ؟ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہی۔۔زوہیب جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا۔ عائزہ اس تک پہنچتے ہوئے بولی۔۔

عائزہ ابھی نہیں۔۔آج بہت تھکا ہوا ہوں۔۔جو بھی بات ہے کل بتانا۔۔ابھی میں سوں گا۔۔

وہ نیند سے بوجھل لہجے میں کہتا بستر پر جا کر لیٹ کر نیند کی وادیوں میں کھو چکا تھا۔

جبکہ عائزہ اپنے شوہر کے بدلے ہوئے رویے کو سوچتے بہت اداس تھی۔

ان گزرے دس سالوں میں وہ دونوں ایک دوسرے سے پورے دن کی روادار شئر کرتے تھے۔آج بھی عائزہ نے بہت اہم بات کرنی تھی اس سے۔۔جس کا علم زوہیب کو ہونا لازمی تھا ۔مگر زوہیب اس کی بنا کچھ سنے سو چکا تھا۔۔

وہ بھی پریشان اور خفا خفا سی بستر پر لیٹ کر آنکھیں موندے چکی تھی۔ہاں البتہ یہ بات الگ تھی کہ آج اسے نیند نہیں آنی تھی۔


جمعرات کی شام تھی۔پورے شہر کا موسم ابرو آلود ہو رہا تھا۔سورج ڈھلنے کے قریب تھا۔اسفند آج دوپہر کی فلائیٹ سے اسلامآباد جا چکا تھا۔

عائزہ کیچن میں موجود رات کے کھانے کا اہتمام کر رہی تھی اس بات سے بے خبر کے آنے والے کچھ لمحات میں اس کی دنیا اجڑتے والی ہے۔

اس کا ممتا کا قتل ہونے والا ہے۔

ماہ رخ لان میں موجود اکیلے بال سے کھیل رہی تھی ۔کھیلتے کھیلتے اس کی بال لان کی پچھلی طرف چلی گئی جسے اٹھانے کے لئیے وہ پیچھے کی جانب گئی۔ابھی بال اٹھا کر وہ واپس مڑی ہی تھی کہ کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کہ اسٹورروم کی جانب کھینچا اور دروازا اندر سے لاک کیا۔

چھوڑو مجھے۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔!!

وہ چیختے ہوئے بولے۔۔ماما۔۔۔بابا۔۔۔!!!

وہ روتے و چیختے ہوئے بولی۔۔۔دور ہوتی آذانوں اور کچھ پیچھے ویرانے میں ہونے کے باعث اس بچی کی آواز کہیں دب سی گئی تھی۔۔

ا۔۔۔انکل۔۔مجھے مما کے پاس جانا ہے۔۔۔

مما۔۔۔بابا۔۔۔۔کے پاس جانا ہے۔۔

گندے انکل۔۔۔۔مما بچاو بابا۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔

جب کہ اس کو یوں مسلسل چیختے دیکھ اس بے ضمیر شخص نے اس ننی بچی کا چہرا طمانچوں سے لال کر دیا۔۔

ماہ رخ روتی چیختی اپنے بابا ماما کو مدد کے لئیے پکارتی اس شیطان صفت انسان سے التجائیں کرتی ہوش و خرد سے بیگانہ ہو چکی تھی آج ایک اور ننی کلی ہوس کا شکار ہوئی تھی۔۔جبکہ وہ شخص اپنے بنائے گئے منصوبے پر ہنستا اپنی ہوس بجھاتا ماہ رخ کی چند چلتی سانسوں کا بھی گلا گھونٹ چکا تھا۔

وہ معصوم جان اس حیوان دنیا سے کوچ کر چکی تھی۔وقت تھم سا گیا تھا۔۔آسمان پر اڑتے پرندے سب اپنی جگہ یکدم ساکت ہوئے تھے۔۔

جب کہ وہ شخص دیوار پھلانگ کر جا چکا تھا۔

اس بات سے انجان دیر سے صحیح پر ہر چیز کا حساب لازمی ہے بے شک وہ دنیا کی نظروں سے بچ کر یہ گناہ کر چکا تھا پر ہر چیز پر قادر و افضل زات یہ سب دیکھ چکی ہے۔

کیچن میں کام کرتی عائزہ کا دل یکدم سے گھبراہٹ میں ڈھلا تھا۔۔وہ کام کو چھوڑتی ماہ رخ کو دیکھنے باہر کی جانب آئی۔۔

ماہ ۔۔۔ماہ رخ گڑیا !!!

اس کو لان میں نا پاکر اس کو تفتیش ہوئی۔۔۔

ماہ کہاں چلی گئی!!

ہو سکتا ہے کمرے میں ہو۔۔۔وہ خود سے کہتی اندر کمرے کی جانب چلی گئی۔لیکن کمرے میں اکیلے افراہیم کو سوتے دیکھ اس کو اپنی جان جاتی محسوس ہوئی۔۔ ماہ رخ۔۔بیٹا ۔۔کہاں ہو آپ ؟

وہ پورے گھر میں چلاتی ہوئی ماہ رخ کو ڈھونڈ رہی تھی۔پاگلوں کی طرح کبھی اس کمرے میں جاتی کبھی اس کمرے لیکن ماہ رخ اسے کہیں بھی نا ملی۔۔عائزہ نے جلدی سے زوہیب کو کال ملائی۔۔

ہیلو۔!!اسلام وعلیکم۔۔

زو۔۔۔زوہیب۔۔۔۔آ۔آپ ۔۔ج۔۔ج۔۔جل۔۔جلدی سے گھ۔۔گھر آہ جائیں۔۔ماہ رخ کہیں ۔ب۔۔بھی نہی۔۔نہیں مل رہی۔۔۔

وہ روتے ہوئے بولی۔۔

کیا۔۔؟؟

دماغ درست ہے تمہارا ماہ رخ گھر میں ہی ہو گی جہاں جا سکتی ہے۔۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آہ رہی آپ پلیز جلدی سے گھر آہ جائیں۔۔

تم فکر نا کرو میں آتا ہوں۔۔وہ کہتا جلدی سے آفس سے گھر کی جانب روانہ ہو چکا تھا۔

وہ جلدی سے رش ڈرائیونگ کرتے ہوئے گھر پہنچا جہاں عائزہ نے رو رو کر اپنا برا حال کیا ہوا تھا۔۔

اس کو اندر آتا دیکھ اس کی جانب لپکی ۔۔۔

زوہ۔۔زہیب۔۔میری ماہ رخ کو ڈھونڈ دو پلیز۔۔۔

میری ماہ مل۔ نہیں رہی۔۔

عائزہ یہاں بیٹھو اور مجھے پوری بات بتاؤ ہوا کیا ہے؟

وہ اس کو اپنے ساتھ صوفے پر لے کر بیٹھتے ہوئے بولا ۔۔

میں۔۔کیچن میں کام کر رہی تھی ۔اور۔ وہ لان میں کھیل رہی تھی۔۔۔۔


کیا لان میں۔۔؟؟

تم نے کان چیک کیا اچھے طرح سے ۔؟

زوہیب نے پوچھا۔

ن۔۔نہیں۔۔۔

عائزہ کے کہتے ہی وہ تیر کی تیزی سے لان کی جانب گیا۔۔عائزہ بھی اس کے پیچھے بھاگتی ہوئی گئی۔وہ دونوں ماہ رخ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے لان کی پیچھے کی جانب آئے انہیں اسٹور روم کادروازا کھلا نظر آیا۔۔

وہ دونوں جلدی سے دروازا کھول کر اندر داخل ہوئے اندر ماہ رخ پر نظر پڑھتے ہی ان کو اپنے دل کی دنیا بنجر ہوتی محسوس ہوئی۔جہاں وہ معصوم پری ابتر حالت میں دنیا اور جہاں سے بیگانہ پڑی تھی۔۔

ماہ رخ ۔۔۔۔۔!!!!!

میری بچی۔۔۔عائزہ چیختے ہوئے اس تک پہنچی اور اس کو اپنی بانہوں میں بھر کر ہوش دلانے لگی۔۔۔

ماہی۔۔۔میری جان اٹھو۔۔۔ماما نے آپ کے لئیے آئس کریم بنائی ہے۔۔۔اٹھو۔۔۔۔!!!!

وہ اس کے بے جان وجود کو جھنجھوڑتے ہوئے بولی۔۔

زوہیب۔۔۔!!

اٹھائیں نا ماہی کو۔۔وہ اٹھ نہیں رہی۔۔۔

زوہیب بیچارا کیا بولتا اس کی خود کی حالت عائزہ جیسی ہو رہی تھی۔۔اس کا دماغ یہ سوچ سوچ کر پھٹا جا رہا تھا ۔۔یہ سب کس نے کیا۔۔؟؟

اس ننی سی جان نے کیا کچھ سہا ہو گا۔۔

مدد کے لئیے ضرور اس نے انہیں پکارا ہو گا۔۔۔

یہ سوچ آتے ہی اس کا دل کلس کر رہ گیا۔۔

ماہی اٹھو ورنہ مما ناراض ہو جائیں گی۔۔ماتیں گی آپ کو۔۔

وہ آنسوں سے تر چہرے کے ساتھ بولی۔۔

بس کرو ۔۔عائزہ۔۔۔!!

مر چکی ہے وہ!! جا چکی ہے ہمیں چھوڑ کے۔۔۔نہیں رہی وہ۔۔۔۔نہیں۔۔رہی۔۔۔

وہ چیختے ہوئے بولا۔۔جبکہ آنسوں اس کے چہرے کو بھی بھیگو رہے تھے۔۔آخر کار اس نے بھی تو اپنی جان سے پیاری بیٹی ،اپنی لاڈلہ پری کو کھویا تھا۔۔

نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔عائزہ کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔میری لاڈو مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔زوہیب۔۔ہماری پری ہم سے دور ہوگئی۔۔وہ زوہیب کے سینے پر سر رکھتی روتے ہوئے بولی۔۔اور روتے روتے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی۔۔


ماہ رخ کی موت کا زیادہ گہرا صدمہ لینے کی وجہ عائزہ بے ہوش ہو چکی تھی تقریباً دو دن بعد اسے ہوش آیا تھا۔اس دوران وہ لوگ ماہ رخ جی کی تدفین کر چکے تھے۔۔جس پر اس نے کافی واویلا مچایا کہ ماہ رخ کے آخری دیدار کے بنا انہوں نے اس کی تدفین کر دی۔۔ماہ رخ کی موت سے وہ دونوں مکمل طور پر ٹوٹ چکے تھے۔۔عائزہ پورا دن ماہ رخ کے کمرے میں گزارتی تھی ۔۔اس کی تصویر ہاتھوں میں لئیے روتی رہتی تھی۔۔اس دوران وہ افراہیم کو بھی زیادہ وقت نہ دے پاتی تھی۔۔۔


اسفند یار پلیز اپنے ہاتھ کی ایک کافی پلا دو اندر عجیب سی بے چینی سی ہو رہی ہے۔۔

اور دوسری چیز یہ کہنی تھی کہ اگر تم برا نا مانو تو کچھ دن آفس دیکھ لو ۔۔۔میں کچھ دن آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔

کیونکہ ان سب معاملات میں میں تمہارے علاؤہ کسی اور پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔۔

میں۔۔۔۔کیسے۔۔!!

پلیز یار صرف تھوڑے دن۔۔

چل ٹھیک ہے۔۔۔فکر نا کر میں سب دیکھ لوں گا۔۔

وہ اس کے شانوں پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔۔


دو ہفتے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت کا کام ہے گزرنا اور وقت تیز رفتاری سے پر لگائے اڑ رہا تھا۔وقت ایک ایسی چیز ہے جو کسی کے کہنے سے رکتا نہیں ہے۔گزرتے وقت کے ساتھ زوہیب کو تھوڑا صبر آہ چکا تھا وہ ماہ رخ کی موت کو قبول کر چکا تھا۔۔مگر عائزہ بھلے ہی ماہ رخ کی موت قبول کر چکی تھی لیکن اس کی ممتا آج بھی تڑپتی تھی۔۔وہ چاہ کر بھی اس بھیانک منظر کو بھلا نہیں پاتی تھی۔۔خود کو اپنی بیٹی کی مجرم تصور کرتی۔۔

جبکہ دوسری طرف اسفند زوہیب کو پوری طرح سے ڈرگز کا عادی بنا چکا تھا۔۔شروع شروع میں وہ کافی میں ڈرگز ملا کر اسے دیتا تھا۔۔جس سے اس کا جسم پوری طرح ڈرگز کا عادی ہو گیا۔۔۔


( دبئی میں اسفند ایک غیر قانونی تنظیم سے ملا ہوا تھا جو کہ منشیات فروخت کرنے کا کام کرتے ہیں۔ پاکستان بھی وہ اسی کام کے سلسلے میں آیا تھا)


وہ زوہیب کو بھی اس کام میں شامل ہونے کے لئیے اکسا رہا تھا۔لیکن زوہیب نے اس کو منع کیا کہ وہ اس قسم کے کاموں میں اس کا ساتھ نہیں دے گا۔۔وہ بھی یہ سب چھوڑ دے یا پھر اس گھر سے چلا جائے۔۔اس کی یہ بات سن کر اسفند ہنسنے لگا۔۔۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔تم مجھے اس گھر سے نکالو گے۔۔۔

واہ۔۔۔۔بہت اچھی بات کی ۔۔۔تم نے۔۔وہ تالیاں بجاتے ہوئے بولا۔

نہیں۔۔مطلب تم مالک کو اس گھر سے نکالو گے۔۔۔؟؟

کی۔۔کیا مطلب؟

مطلب یہ کہ یہ گھر تمہارا بزنس سب میرے نام ہے ۔

یہ کیا بکواس ہے۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟

وہ اس کی بات سن کر تیش میں آنے لگا۔


جب تم نے مجھے کہا کہ افراہیم کے نام کے کاغذات بنا دوں کہ تمہارے مرنے کے بعد یہ سب دولت افراہیم کی ہو گی۔۔۔

تو میں افراہیم کی جگہ اپنا نام لکھوایا جسے تم نشے میں ہونے کی وجہ سے دیکھ نا پائے اور سائین کر دئیے۔۔

ک۔۔۔کیوں۔۔۔؟؟؟

وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اس کی جانب آیا اور اس کا گریبان پکڑتے ہوئے بولا۔۔

سننا ہے ۔۔۔تو سنو۔۔۔۔وہ اس کا ہاتھ اپنے گریبان سے چھڑاتے ہوئے بولا۔۔

کیونکہ بچپن سے لے کر آج تک جو چیز مجھے پسند ہوتی وہ تمہیں مل جاتی تھی۔۔جس چیز کی چاہت میں کرتا وہ چیز تم حاصل کر لیتے۔۔ہر کوئی تمہارے نام کے گن گاتا۔۔ ۔۔میرے والدین ،ٹیچر سب یہی بولتے بیٹا زوہیب جیسے بنو۔۔ ۔زوہیب ،زوہیب،زوہیب۔۔تنگ آگیا تھا اس نام سے۔۔۔ یہاں تک کہ عائزہ کو بھی میں پسند کرتا تھا مگر وہ تمہیں پسند کرتی تھی۔۔تمہارے لئیے اس نے مجھے دھتکارا تھا۔

پر اب نہیں۔!! میں۔۔۔۔چین لوں گا اسے تم سے جیسے یہ سب چھینا ہے۔۔۔۔

چٹاخ۔۔۔اس سے پہلے کے وہ آگے کے الفاظ کہتا عائزہ کے ہاتھ سے پڑنے والے تھپڑ نے اس کے چلتی زبان کو قفل لگایا۔۔

کیا۔۔۔بکواس کر رہے ہو؟

تم میں شرم و غیرت نام کی چیز ہے بھی یا نہیں۔ ؟؟

ان سے تو میں نے پہلے بھی کہا تھا مگر ان کے سر پر تو دوستی کا بھوت سوار تھا۔۔

عائزہ ۔۔تم میرے پاس آہ جاو۔۔دیکھو یہ ساری دولت میری ہو چکی ہے۔۔۔سب میرے پاس ہے۔۔

میرے پاس میرا شوہر ہے مجھے تم جیسے لالچی اور وحشی انسان کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔اور ویسے بھی تمہارے پاس آنے سے پہلے میں مرنا پسند کرونگی۔۔

تو پھر ٹھیک ہے جب تم میری نہیں ہو گی ۔۔تو تمہیں اس کا بھی نہیں رہنے دوں گا ۔۔

اس نے کہتے ہی جیب سے گن نکالی اور نشے میں دھت زوہیب کو اوپر تانی جو کہ سن دماغ کے ساتھ سب دیکھ رہا تھا۔۔ وہ اٹھنا چاہتا تھا پر اس کا جسم اٹھنے سے انکاری تھا۔۔

تم۔۔۔تم پاگل ہو گئے۔۔۔۔وہ اس کو گن تانے دیکھ بولی۔۔۔

ہاں ہو گیا ہوں پاگل ۔۔۔

ٹھاہہہہ۔۔۔۔

کہتے ہی اس نے گن چلائی اور گولی نکلتی ہوئی سیدھا زوہیب کے سینے میں جا لگی۔۔

زوہیب۔ ۔۔۔

عائزہ چیختی ہوئی اس تک پہنچی ۔۔

ٹھااااا ۔۔۔

بندوق سے دوسری گولی نکلی جو کہ سیدھا عائزہ کے پیٹ میں لگی۔۔

عا۔۔ئ۔۔عائزہ۔۔۔۔!!!!

زوہیب نے سن ہوتے وجود کے ساتھ عائزہ کو پکارتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما آنسوں دونوں کی آنکھوں سے رواں تھے ایک کی آنکھوں میں بے اعتباری کا غم تھا جبکہ دوسرے کی آنکھ میں بچھڑنے کا۔۔۔


واہ۔۔۔کیا محبت ہے دونوں میں مرتے دم تک ساتھ وہ تالیاں بجاتے ہوئے بولا۔۔۔

آج ایک راز کی بات بتاوں۔۔تمہاری بیٹی ماہ رخ کا قتل بھی میرے ہی ہاتھوں ہوا ہے۔۔۔

وہ ہنستے ہوئے اپنے ہاتھوں کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔

اس کی بات سنتے ضبط کے مارے ان دونوں نے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔

مما۔۔۔۔۔مما۔۔۔۔۔ننھا سا افراہیم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اپنی ماں کو پکارتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔

افرا۔۔۔۔افراہیم۔۔۔۔۔وہ اکھڑتی ہوئی سانسوں کے ساتھ بولی۔۔۔

چلو اچھا ہوا یہ چھوٹا بھی خود آگیا۔۔۔

تم سب کو ایک ساتھ اوپر پہنچاتا ہوں۔۔

ن۔۔نہیں۔۔۔۔وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔

ارے کیا یار۔۔۔وہ بیچارا اکیلے کیا کرے گا۔۔۔

اس نے کہتے ہی بنا اس ننی جان کا ترس کھائے بندوق کی گولیاں اس میں بھی اتار دیں۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ سب میرا ہے۔۔۔۔۔

وہ پاگلوں کی طرح ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔

باہر ہوتی تیز طوفانی بارش اور چمکتی بجلی نے ماحول کو کافی خوفناک بنایا ہوا تھا۔۔وہ بے ضمیر شخص کسی کا گھر برباد کیے ہنستا ہوا جا چکا تھا۔۔اس بات سے انجان کے اس کے سارے اعمال ایک کتاب میں لکھے جا چکے ہیں۔۔


اسفند کے جانے کے بعد زوہیب کا پھوپھو زاد کزن(سمیر) آیا تھا۔۔۔گھر میں چھائے سناٹے کو دیکھ کر یکدم پریشان ہوا پھر ایک کمرے کی جانب اس کی نظر گئی جہاں سے خون نکل رہا تھا وہ گھبرا کر کمرے کی جانب دوڑا اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوئے۔۔اس نے جلدی سے ایمبولینس کو کال کی اور سب کو ہسپتال لے کر آیا۔۔عائزہ اور افراہیم موقع واردات پر ہی جان بحقِ ہو چکے تھے۔۔لیکن زوہیب میں کچھ سانسیں باقی تھیں۔۔وہ کوما میں جا چکا تھا۔۔

تقریباً ایک سال کوما میں رہنے کے بعد اس کو ہوش آیا تھا۔۔

صرف میری غفلت نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔۔۔جس شخص پر میں نے اندھا اعتماد کیا اس ہی نے میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔۔میں نے ایک دوست نہیں آستین کا سانپ پالا تھا۔۔کچھ لوگ بظاہر تو دوست ہوتے ہیں لیکن وہ حقیقی دوست نہیں ہوتے ۔۔۔

ایسے لوگ دوستی جیسے انمول رشتے کے نام کو مٹی میں ملا دیتے ہیں۔۔کہ لوگ دوست بناتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

کہتے ہیں "ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا"

اور سچی دوستی جیسا قیمتی رشتہء بھی قسمت والوں کو ملتا ہے۔۔اور شاید اس معاملے میں ،میں بد قسمت ہوں۔۔

کیا تم اس شخص کو ایسے ہی جانے دو گے؟؟جس نے تم سے تمہاری تمام خوشیوں کو چھینا۔۔۔

مقابل شخص کی بات سن کر وہ مدھم سا مسکرایا۔۔۔اور جب بولا تو سامنے والے کے پاس کوئی جواب نہیں بچا۔۔

میں نے اپنا فیصلہ اپنے اللّٰہ کے سپرد کی کیا ہے۔۔۔۔ مجھے خدا پر پورا بھروسہ ہے ۔۔کیونکہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔۔جب بھی کسی کو پڑتی ہے تو وہ دوبارا اٹھنے کا قابل نہیں رہتا۔۔

۔۔اور میرا انصاف میرا خدا کرے گا۔۔

پھر تو سمجھو وہ شخص اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔۔سمیر کی بیوی نے ایک نیوز پیپر لاکر ٹیبل پر رکھا جہاں پر لکھا تھا۔۔۔

ملک کے مشہور بزنس مین اسفند ارسلان کا انگلینڈ جاتا جہاز کریش ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس شخص کو تو کفن بھی نصیب نہیں ہوا۔۔اور یہی اس کی بدترین سزا ہے۔۔

یا اللّٰہ تیرا شکر۔۔۔۔تو میرا انصاف لے چکا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کہتا صوفے سے ٹیک لگا گیا۔۔


اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا

لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا


میرے جھوٹ کو کھولو بھی اور تولو بھی تم

لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا


کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی

آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا


بزم میں یاروں کی شمشیر لہو میں تر ہے

رزم میں لیکن تلوار کو میان میں رکھنا


آج تو اے دل ترک تعلق پر تم خوش ہو

کل کے پچھتاوے کو بھی امکان میں رکھنا


اس دریا سے آگے ایک سمندر بھی ہے

اور وہ بے ساحل ہے یہ بھی دھیان میں رکھنا


اس موسم میں گل دانوں کی رسم کہاں ہے

لوگو اب پھولوں کو آتش دان میں رکھنا

ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔


Apna review dena mat bhoolye ga🥳


















Jan. 3, 2022, 8:45 a.m. 0 Report Embed 0
~